• Like
    1
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 70 Visualizações 0 Anterior
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 56 Visualizações 0 Anterior
  • Love
    1
    1 Comentários 0 Compartilhamentos 68 Visualizações 0 Anterior
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 89 Visualizações 0 Anterior
  • میرے مینور آپ سلامت رہیں
    صحت کے ساتھ تاقیامت رہیں
    میرے مینور آپ سلامت رہیں صحت کے ساتھ تاقیامت رہیں
    Love
    Like
    5
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 91 Visualizações 0 Anterior
  • دنیا تو کہتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلطان ثاقب

    سب سے بڑا روگ، کیا کہیں گے لوگ۔۔اکثر سنتے ہیں کہ فلاں شخص نے زیرو سے شروع کیا اور آج کہاں پہنچ گیا۔ میری نظر میں سب سے پہلی کامیابی زیرو سے آگے نکلنے کا عزم ہے، عزم کر لیا جائے تو پہلا قدم اٹھا لیا جاتا ہے اور یہی مشکل مرحلہ ہے۔۔! پھِر چلتے جائیں یا دوڑتے منزل قریب سے قریب تر ہوتی ہے۔ زیرو اصل میں وہ دائرہ ہے جو ناکامی کے ڈر اور آس پاس کے لوگوں کی باتوں سے بنتا ہے جو آپکو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں۔مسئلی یہ ہے کہ آپ کو خود سے زیادہ ان لوگوں کی شکست خوردہ باتوں پہ یقین ہوتا ہے جو آپ کو الجھا دیتی ہیں اور پہلا قدم دشوار ہو جاتا ہے۔چکور جنون میں چاند کی طرف اڑتا رہتا ہے، شمع جلے تو پروانے آتے ہیں چاہے جل جائیں، یہ کیا ہے؟ پانے کا عزم قریب جانے کا حوصلہ۔ مگر تجھے تو جنون کے ساتھ عقل عطا کی گئی، پہلے منزل کا تعین کر پھِر زور لگا، حاصل کر جو چاہتا ہے ہار نہیں بس منزل پہ پہنچ، چاہے موت سے چند سانسیں پہلے ہی پہنچ تاکہ مطمئن جائے اور آنے والوں کو جیتنے کا سبق ملے۔
    مت بھول کہ ناکامی کا ڈر سب سے بڑی ناکامی ہے، ناکام اور کامیاب انسان میں بس ایک جملے کا ہی تو فرق ہے، ” ہاں میں کر سکتا ہوں“ یا ” نہیں ہو سکے گا۔۔ یا تو سات ارب انسانوں کی بھیڑ میں چپ چاپ سانسیں پوری کر اور چلتا بن، یا کھل کے سامنے آ کہ تیری کامیابی کے چرچے ہوں۔ مت سن جو دنیا کہتی ہے وہ کر جو کرنا چاہتا ہے۔۔
    مت بھول کہ جب اجنبی راہی سڑک پہ جاتے ہیں تو راستے کے کتے پیچھے بھاگتے ہیں، کیا دشمنی کیا لینا دینا؟ وہ صرف اپنی فطرت دکھاتے ہیں، تو پتھر ڈھونڈ کے مارنے اور الجھنے کی بجائے چلتا جا، اسی راستے جو تیری منزل کی طرف جا رہا۔۔۔!
    منزلیں انہی کو ملتی ہیں جو راستوں کے تھپیڑے برداشت کرتے ہیں۔مت بھول کہ تجھے پیدا کرنے والا تیرے کچھ حاصل کرنے کے عزم و یقیں کو دیکھتا ہے، پھِر لوگوں کی ڈیوٹی لگا دیتا ہے کہ کس نے کب اور کہاں تیری مدد کرنی ہے۔ خود کو دنیا کی نظر سے نہیں اپنی نظر سے دیکھ، اپنے اندر جھانک،اپنے اندر بسے خوف کو باہر نکال اور کھل کے جینے کا ہنر سیکھ۔
    صبر سے چلتا جا اور شکر پہ ختم کر۔۔دنیا کب چپ رہتی ہے، دنیا تو کہتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا تو کہتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان ثاقب سب سے بڑا روگ، کیا کہیں گے لوگ۔۔اکثر سنتے ہیں کہ فلاں شخص نے زیرو سے شروع کیا اور آج کہاں پہنچ گیا۔ میری نظر میں سب سے پہلی کامیابی زیرو سے آگے نکلنے کا عزم ہے، عزم کر لیا جائے تو پہلا قدم اٹھا لیا جاتا ہے اور یہی مشکل مرحلہ ہے۔۔! پھِر چلتے جائیں یا دوڑتے منزل قریب سے قریب تر ہوتی ہے۔ زیرو اصل میں وہ دائرہ ہے جو ناکامی کے ڈر اور آس پاس کے لوگوں کی باتوں سے بنتا ہے جو آپکو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں۔مسئلی یہ ہے کہ آپ کو خود سے زیادہ ان لوگوں کی شکست خوردہ باتوں پہ یقین ہوتا ہے جو آپ کو الجھا دیتی ہیں اور پہلا قدم دشوار ہو جاتا ہے۔چکور جنون میں چاند کی طرف اڑتا رہتا ہے، شمع جلے تو پروانے آتے ہیں چاہے جل جائیں، یہ کیا ہے؟ پانے کا عزم قریب جانے کا حوصلہ۔ مگر تجھے تو جنون کے ساتھ عقل عطا کی گئی، پہلے منزل کا تعین کر پھِر زور لگا، حاصل کر جو چاہتا ہے ہار نہیں بس منزل پہ پہنچ، چاہے موت سے چند سانسیں پہلے ہی پہنچ تاکہ مطمئن جائے اور آنے والوں کو جیتنے کا سبق ملے۔ مت بھول کہ ناکامی کا ڈر سب سے بڑی ناکامی ہے، ناکام اور کامیاب انسان میں بس ایک جملے کا ہی تو فرق ہے، ” ہاں میں کر سکتا ہوں“ یا ” نہیں ہو سکے گا۔۔ یا تو سات ارب انسانوں کی بھیڑ میں چپ چاپ سانسیں پوری کر اور چلتا بن، یا کھل کے سامنے آ کہ تیری کامیابی کے چرچے ہوں۔ مت سن جو دنیا کہتی ہے وہ کر جو کرنا چاہتا ہے۔۔ مت بھول کہ جب اجنبی راہی سڑک پہ جاتے ہیں تو راستے کے کتے پیچھے بھاگتے ہیں، کیا دشمنی کیا لینا دینا؟ وہ صرف اپنی فطرت دکھاتے ہیں، تو پتھر ڈھونڈ کے مارنے اور الجھنے کی بجائے چلتا جا، اسی راستے جو تیری منزل کی طرف جا رہا۔۔۔! منزلیں انہی کو ملتی ہیں جو راستوں کے تھپیڑے برداشت کرتے ہیں۔مت بھول کہ تجھے پیدا کرنے والا تیرے کچھ حاصل کرنے کے عزم و یقیں کو دیکھتا ہے، پھِر لوگوں کی ڈیوٹی لگا دیتا ہے کہ کس نے کب اور کہاں تیری مدد کرنی ہے۔ خود کو دنیا کی نظر سے نہیں اپنی نظر سے دیکھ، اپنے اندر جھانک،اپنے اندر بسے خوف کو باہر نکال اور کھل کے جینے کا ہنر سیکھ۔ صبر سے چلتا جا اور شکر پہ ختم کر۔۔دنیا کب چپ رہتی ہے، دنیا تو کہتی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Like
    2
    1 Comentários 0 Compartilhamentos 96 Visualizações 0 Anterior
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 40 Visualizações 0 Anterior
  • 0 Comentários 0 Compartilhamentos 39 Visualizações 0 Anterior
  • Love
    1
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 41 Visualizações 0 Anterior
  • Like
    1
    0 Comentários 0 Compartilhamentos 73 Visualizações 0 Anterior